Home 🎬 Bollywood 🎵 Pakistani 🎤 English Pop

Selected Poetry, Pt. 3

👤 Ahmed Faraz 🎼 Selected Poetry ⏱️ 3:02
🎵 2463 characters
⏱️ 3:02 duration
🆔 ID: 9128631

📜 Lyrics

کراچی میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے
جتنی محبت مجھے ملی
اور
بلکہ مجھے یاد ہے اس مشاعرے میں جب میں نے
محاصرہ نظم پڑھی
اور تھا بھی شاید خواتین کا مشاعرہ
تو ساری خواتین نے میرے گرد حلقہ باندھ لیا تھا کہ ممکن ہے پولیس یہیں سے لے جائے اور گورنر ان دنوں تھے وہ پھر ظاہر کہ بہرحال
یہ تو ایک ویسی بات تھی

لیکن کراچی کے دوستوں نے، میں نے یہاں سے سیکھا بھی بہت
مجھے محبت بھی بہت ملی اور اب بھی میری، میرے بہت اچھے دوست جو ہیں وہ کراچی میں مقیم ہیں
تو میں اپنے آپ کو، کراچی کو اپنا گھر سمجھتا ہوں
اور اسی اعتبار سے جب یہاں سے کوئی بلاوا آتا ہے
تو میں حاضر ہو جاتا ہوں

اچھا جی! ایک اور نظم اور پھر اس کے بعد غزلیں
یہ ایک میں اور تو
دھوپ اور سایہ بھی ہو سکتا ہے اس کا مان
ہم ایک دوسرے سے بعض اوقات اتنے جڑے ہوتے ہیں
بہ ظاہر دوری ہوتی ہے کوئی تعلق نہیں ہوتا
کہ ایک دوسرے کے وجود سے ہمارا
ایک کا ختم ہو جائے وجود تو دوسرا خود بہ خود
غائب ہو جاتا ہے

روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتی
کوئی گھٹتا ہوا، بڑھتا ہوا بیکل سایہ
ایک دیوار سے کہتا، کہ میرے ساتھ چلو
روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتی
کوئی گھٹتا ہوا، بڑھتا ہوا بیکل سایہ
ایک دیوار سے کہتا، کہ میرے ساتھ چلو
اور زنجیر رفاقت سے گریزاں دیوار
اپنے پندار کے نشے میں سدا استادہ
خواہش ہم دم دیرینہ پہ ہنس دیتی تھی
کون دیوار کسی سائے کے ہمراہ چلی؟
کون دیوار کسی سائے کے ہمراہ چلی؟
کون دیوار ہمیشہ مگر استادہ رہی؟
وقت دیوار کا ساتھی ہے نہ سائے کا رفیق
اور اب سنگ و گل و خشت کے ملبے کے تلے
اسی دیوار کا پندار ہے ریزہ ریزہ
دھوپ نکلی ہے
مگر جانے کہاں ہے سایہ؟

⏱️ Synced Lyrics

[00:02.43] کراچی میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے
[00:06.09] جتنی محبت مجھے ملی
[00:08.34] اور
[00:10.48] بلکہ مجھے یاد ہے اس مشاعرے میں جب میں نے
[00:12.76] محاصرہ نظم پڑھی
[00:15.03] اور تھا بھی شاید خواتین کا مشاعرہ
[00:17.47] تو ساری خواتین نے میرے گرد حلقہ باندھ لیا تھا کہ ممکن ہے پولیس یہیں سے لے جائے اور گورنر ان دنوں تھے وہ پھر ظاہر کہ بہرحال
[00:28.37] یہ تو ایک ویسی بات تھی
[00:30.26] لیکن کراچی کے دوستوں نے، میں نے یہاں سے سیکھا بھی بہت
[00:34.07] مجھے محبت بھی بہت ملی اور اب بھی میری، میرے بہت اچھے دوست جو ہیں وہ کراچی میں مقیم ہیں
[00:42.06] تو میں اپنے آپ کو، کراچی کو اپنا گھر سمجھتا ہوں
[00:45.75] اور اسی اعتبار سے جب یہاں سے کوئی بلاوا آتا ہے
[00:49.76] تو میں حاضر ہو جاتا ہوں
[00:55.62] اچھا جی! ایک اور نظم اور پھر اس کے بعد غزلیں
[01:00.50] یہ ایک میں اور تو
[01:03.84] دھوپ اور سایہ بھی ہو سکتا ہے اس کا مان
[01:08.25] ہم ایک دوسرے سے بعض اوقات اتنے جڑے ہوتے ہیں
[01:13.75] بہ ظاہر دوری ہوتی ہے کوئی تعلق نہیں ہوتا
[01:16.98] کہ ایک دوسرے کے وجود سے ہمارا
[01:21.03] ایک کا ختم ہو جائے وجود تو دوسرا خود بہ خود
[01:23.92] غائب ہو جاتا ہے
[01:27.04] روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتی
[01:32.41] کوئی گھٹتا ہوا، بڑھتا ہوا بیکل سایہ
[01:39.19] ایک دیوار سے کہتا، کہ میرے ساتھ چلو
[01:45.08] روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتی
[01:50.12] کوئی گھٹتا ہوا، بڑھتا ہوا بیکل سایہ
[01:55.03] ایک دیوار سے کہتا، کہ میرے ساتھ چلو
[01:59.33] اور زنجیر رفاقت سے گریزاں دیوار
[02:05.72] اپنے پندار کے نشے میں سدا استادہ
[02:10.80] خواہش ہم دم دیرینہ پہ ہنس دیتی تھی
[02:16.11] کون دیوار کسی سائے کے ہمراہ چلی؟
[02:22.04] کون دیوار کسی سائے کے ہمراہ چلی؟
[02:26.88] کون دیوار ہمیشہ مگر استادہ رہی؟
[02:32.05] وقت دیوار کا ساتھی ہے نہ سائے کا رفیق
[02:38.72] اور اب سنگ و گل و خشت کے ملبے کے تلے
[02:46.12] اسی دیوار کا پندار ہے ریزہ ریزہ
[02:50.98] دھوپ نکلی ہے
[02:52.99] مگر جانے کہاں ہے سایہ؟
[02:55.40]

⭐ Rate These Lyrics

Average: 0.0/5 • 0 ratings