Selected Poetry, Pt. 9
🎵 1484 characters
⏱️ 2:21 duration
🆔 ID: 9128762
📜 Lyrics
اس نے سکوت شب میں بھی
اپنا پیام رکھ دیا
اس نے سکوت شب میں بھی
اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر
ماہ تمام رکھ دیا
آمد دوست کی نوید
آمد دوست کی نوید
کوئے وفا میں گرم تھی
میں نے بھی اک چراغ سا
دل سر شام رکھ دیا
شدت تشنگی میں بھی
غیرت مے کشی رہی
شدت تشنگی میں بھی
غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر
میں نے بھی جام رکھ دیا
شدت تشنگی میں بھی
غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر
میں نے بھی جام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے
دیکھو یہ میرے زخم ہیں
دیکھو یہ میرے خواب تھے
دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں
بر سر عام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی
ایسے بھلے سخن کہے
اس نے نظر نظر میں ہی
ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں
سارا کلام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی
ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں
سارا کلام رکھ دیا
اور فرازؔ چاہئیں
کتنی محبتیں تجھے؟
اور فرازؔ چاہئیں
کتنی محبتیں تجھے؟
ماؤں نے تیرے نام پر
بچوں کا نام رکھ دیا
اپنا پیام رکھ دیا
اس نے سکوت شب میں بھی
اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر
ماہ تمام رکھ دیا
آمد دوست کی نوید
آمد دوست کی نوید
کوئے وفا میں گرم تھی
میں نے بھی اک چراغ سا
دل سر شام رکھ دیا
شدت تشنگی میں بھی
غیرت مے کشی رہی
شدت تشنگی میں بھی
غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر
میں نے بھی جام رکھ دیا
شدت تشنگی میں بھی
غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر
میں نے بھی جام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے
دیکھو یہ میرے زخم ہیں
دیکھو یہ میرے خواب تھے
دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں
بر سر عام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی
ایسے بھلے سخن کہے
اس نے نظر نظر میں ہی
ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں
سارا کلام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی
ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں
سارا کلام رکھ دیا
اور فرازؔ چاہئیں
کتنی محبتیں تجھے؟
اور فرازؔ چاہئیں
کتنی محبتیں تجھے؟
ماؤں نے تیرے نام پر
بچوں کا نام رکھ دیا
⏱️ Synced Lyrics
[00:03.04] اس نے سکوت شب میں بھی
[00:06.81] اپنا پیام رکھ دیا
[00:10.88] اس نے سکوت شب میں بھی
[00:13.86] اپنا پیام رکھ دیا
[00:17.22] ہجر کی رات بام پر
[00:20.21] ماہ تمام رکھ دیا
[00:24.35] آمد دوست کی نوید
[00:27.92] آمد دوست کی نوید
[00:30.67] کوئے وفا میں گرم تھی
[00:33.72] میں نے بھی اک چراغ سا
[00:36.27] دل سر شام رکھ دیا
[00:40.28] شدت تشنگی میں بھی
[00:43.30] غیرت مے کشی رہی
[00:46.58] شدت تشنگی میں بھی
[00:49.31] غیرت مے کشی رہی
[00:52.23] اس نے جو پھیر لی نظر
[00:54.82] میں نے بھی جام رکھ دیا
[00:58.42] شدت تشنگی میں بھی
[01:01.28] غیرت مے کشی رہی
[01:04.21] اس نے جو پھیر لی نظر
[01:06.55] میں نے بھی جام رکھ دیا
[01:09.26] دیکھو یہ میرے خواب تھے
[01:12.76] دیکھو یہ میرے زخم ہیں
[01:16.86] دیکھو یہ میرے خواب تھے
[01:19.39] دیکھو یہ میرے زخم ہیں
[01:22.12] میں نے تو سب حساب جاں
[01:24.63] بر سر عام رکھ دیا
[01:28.24] اس نے نظر نظر میں ہی
[01:31.49] ایسے بھلے سخن کہے
[01:35.13] اس نے نظر نظر میں ہی
[01:37.90] ایسے بھلے سخن کہے
[01:40.63] میں نے تو اس کے پاؤں میں
[01:43.03] سارا کلام رکھ دیا
[01:46.58] اس نے نظر نظر میں ہی
[01:49.58] ایسے بھلے سخن کہے
[01:52.56] میں نے تو اس کے پاؤں میں
[01:54.99] سارا کلام رکھ دیا
[01:58.84] اور فرازؔ چاہئیں
[02:01.57] کتنی محبتیں تجھے؟
[02:05.26] اور فرازؔ چاہئیں
[02:07.75] کتنی محبتیں تجھے؟
[02:10.53] ماؤں نے تیرے نام پر
[02:12.95] بچوں کا نام رکھ دیا
[02:15.15]
[00:06.81] اپنا پیام رکھ دیا
[00:10.88] اس نے سکوت شب میں بھی
[00:13.86] اپنا پیام رکھ دیا
[00:17.22] ہجر کی رات بام پر
[00:20.21] ماہ تمام رکھ دیا
[00:24.35] آمد دوست کی نوید
[00:27.92] آمد دوست کی نوید
[00:30.67] کوئے وفا میں گرم تھی
[00:33.72] میں نے بھی اک چراغ سا
[00:36.27] دل سر شام رکھ دیا
[00:40.28] شدت تشنگی میں بھی
[00:43.30] غیرت مے کشی رہی
[00:46.58] شدت تشنگی میں بھی
[00:49.31] غیرت مے کشی رہی
[00:52.23] اس نے جو پھیر لی نظر
[00:54.82] میں نے بھی جام رکھ دیا
[00:58.42] شدت تشنگی میں بھی
[01:01.28] غیرت مے کشی رہی
[01:04.21] اس نے جو پھیر لی نظر
[01:06.55] میں نے بھی جام رکھ دیا
[01:09.26] دیکھو یہ میرے خواب تھے
[01:12.76] دیکھو یہ میرے زخم ہیں
[01:16.86] دیکھو یہ میرے خواب تھے
[01:19.39] دیکھو یہ میرے زخم ہیں
[01:22.12] میں نے تو سب حساب جاں
[01:24.63] بر سر عام رکھ دیا
[01:28.24] اس نے نظر نظر میں ہی
[01:31.49] ایسے بھلے سخن کہے
[01:35.13] اس نے نظر نظر میں ہی
[01:37.90] ایسے بھلے سخن کہے
[01:40.63] میں نے تو اس کے پاؤں میں
[01:43.03] سارا کلام رکھ دیا
[01:46.58] اس نے نظر نظر میں ہی
[01:49.58] ایسے بھلے سخن کہے
[01:52.56] میں نے تو اس کے پاؤں میں
[01:54.99] سارا کلام رکھ دیا
[01:58.84] اور فرازؔ چاہئیں
[02:01.57] کتنی محبتیں تجھے؟
[02:05.26] اور فرازؔ چاہئیں
[02:07.75] کتنی محبتیں تجھے؟
[02:10.53] ماؤں نے تیرے نام پر
[02:12.95] بچوں کا نام رکھ دیا
[02:15.15]